Wusat-e-Nazar by Mojahid Mirza

وسعت نظر ڈاکٹر مجاہد مرزا

Independence Day 14th Aug 2021
Independence Day 14th Aug 2021

دی ہم کو یوں آزادی ۔۔۔

کہ ہم اتنے پریشان، پر یہ بھی ہے احسان خدا تیرا ہے احسان۔۔۔۔

یوم آزادی بہ اسم چودہ اگست سے متعلق میں نے شاید سکول میں تقریر کرنے کی خاطر لکھا ہو مگر اس کے بعد نہیں البتہ چند سال پیشتر کچھ لکھا جو تب کے تناظر میں تھا لیکن مسئلہ یہ ہے 1947 سے اب تک ملک میں اگرتناظر کبھی بدلا بھی تو وہ عام لوگوں بہ معنی عوام کے لیے یونہی بدلا جسے عالمی تناظر میں تبدیلی کی پرچھائیں ہی سمجھا جا سکتا ہے اور بس۔۔۔۔ یوں کہ اگر شہروں کی سڑکوں سے تانگے تمام ہوئے توان کی جگہ مشینی تانگوں یعنی چنگچی نے لے لی، جن کی کوئی مہار نہیں چنانچہ بے مہار پھرتے ہیں، ٹکراتے ہیں، سواریوں سمیت ٹوٹتے ہیں بکھرتے ہیں یا جیسے موبائل سم کی تعداد میں بے محابا اضافے کوحکمران سماجی ترقی کے پیمانے کے طور پر پیش کرتے شرمسار نہیں ہوتے اگرچہ اس طرح سماجی اخلاقیات کے تاروپود شکست و ریخت سے دوچار ہیں چونکہ روا کے ساتھ ناروا  دیکھنے، سننے پہ  لاکھ قدغن لگائی جائیں مگر پراکسیاں موجود ہوتی اور رسائی سہل۔
جتنے برس آزادی ملے ہو چکے ہیں اتنے بلکہ کہیں کم وقت میں جاپان نیا جاپان بنا، چین نیا چین جبکہ نیا ملک جنوبی کوریا، کوریائی جنگ سے برآمد ہو کر مغربی ممالک کے ہم پلہ ہو گیا۔ مگر

ایسا کیوں ہے کہ مملکت خداداد پہ خدا کے کرم کا ابر اگر برستا ہے تو بوند دو بوند۔ ایسا ہونے کی وجوہ سے متعلق لکھنے والوں نے دفاتر کے دفاتر سیاہ کر ڈالے، بولنے والوں کے بس گلے نہیں بیٹھے مگر اس ساری بصارت و سمع خراشی کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔

نکل بھی بھلا کیسے سکتا تھا چونکہ یہ لکھنے بولنے والے سبھی، جونہی گنگا تک ہاتھ پہنچتا ہے اس میں نہا کر مچان پہ جا بیٹھتے ہیں جہاں انہیں اپنا آپ دکھائی نہیں دیتا چنانچہ دوسروں پر انگلیاں اٹھاتے رہتے ہیں۔ چیختے ہیں چنگھاڑتے ہیں اور زبان سے رال بہاتے رہتے ہیں۔
آزادی مجرد نہیں ہوا کرتی بلکہ مرکب ہوتی ہے جب تک جہاں اور جس بھی سطح اور شعبے میں میسر آئے وہاں موجود ہر فرد اور ہر اجتماعی ادارے کو اسے مضبوط ترکرکے حقیقی آزادی میں منقلب کرنے کی سعی کرنا ہوتی ہے۔ ایسا وہ اقوام کرتی ہیں جو فی الحقیقت ایک قوم ہوں نہ کہ ایسی قومیتوں کا مجموعہ جو باہمی تعصبات سے آزاد نہیں ہوا ہوتا۔ کسی بھی آزاد خطے میں قومیتوں یا اقوام کا ہونا ایک عام بات ہے مگر ان سب کو ایک یا ایک سے زیادہ نکات پر متفق ہونا ضروری ہے تاکہ وہ یک جان قوم بن کراس خطے اور خطے میں بسنے والوں کی بہتری اور برتری کی خاطر جی جان سے کام کریں۔

مگر افسوس کہ ہمارے ہاں ایسا نہیں ہو پایا ہے۔ مختصرتاریخ، خودغرض حکام، لوگوں کو اعتماد میں نہ لینا بلکہ بعض اوقات اعتماد میں لینے کا جھانسہ دے کر باقاعدہ دھوکا دیا جانا بھی ایسا نہ ہونے کی وجوہ رہیں۔ سیاست کو پلنے نہ دیا گیا یوں جو لوگ سیاست میں آنے لگے انہوں نے اقتدار کی طوالت مختصر کیے جانے کے ڈر سے پہلے اپنی جھولیاں بھرنا شروع کر دیں اس طرح حکومتوں کی مدت کو مختصر کرنے والوں کو موقع میسر آیا کہ وہ سیاست دانوں کو خائن اور بددیانت کے طور پر بدنام کرتے ہوئے اپنی ان سے کہیں بدتر خیانت و بددیانتی پر پردہ ڈالے رکھیں۔
یوں ملک میں ایک پورا سلسلہ قائم ہو گیا جن کا  تعلق مفاد پرستی اور مفاد پرستی  کو فروغ دینے والے اداروں اور

محکموں کے ساتھ بندھا ہے، ان کو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ لوگوں کی اکثریت چاہے پستی رہے، گھسٹتی رہے۔ لوگ بھی صبر کرنے کے عادی ہو گئے۔

ملک کی سیاست پہ ناجائز قبضہ کرنے والوں نے تو ملک کا مقدر بگاڑا سو بگاڑا مگر پاپولسٹ سیاسی رہنماوں نے بھی کچھ کم ظلم نہیں کیا۔ کہنے کو تو ہم کہتے ہیں کہ پیپلز پارٹی کے ادوار چاہے وہ ذوالفقار کا تھا یا ان کی صاحبزادی کا ، ملک کی سیاست اور عوام الناس کے لیے نسبتا” بہتر تھے مگر چاہے اسے آدھا سچ سمجھ لیں یا آدھا جھوٹ لیکن حقیقت یہ ہے کہ خارجہ پالیسی میں امریکہ کی حاشیہ آرائی کے سبب ایسے رخنے تھے جو پاٹے نہیں جا سکے۔ خاص طور پر افغانستان کے نام نہاد مجاہدین کا ساتھ دینا اور پھر طالبان کی حکومت کی حمایت۔ نواز شریف کی حکومت نے بھی افغانستان کا در کھلا رکھا۔ ہیروئن سے لے کے کلاشنیکوو کلچر اور بعد میں دہشت گردی یہ سب تب کی غلط روش کے نتائج ہیں جن سے تاحال نمٹا جانا ممکن نہیں ہوا۔

رہی سہی کسر موجودہ حکومت کے پاپولسٹ اعمال، کہے سے پھر جانے کی عادت، لوٹی ہوئی دولت کا ذکر اور دولت واپس لائے جانے کا جھوٹ اوپر سے مخالف سیاست دانوں کے خلاف منتقمانہ معاندت۔ کیا آزادی کے یہی ثمرات ہوا کرتے ہیں؟

آزادی کی تکمیل کی امید تو بہر طور رکھنی ہی ہوتی ہے کیونکہ کہتے ہیں امید آخر میں مرا کرتی ہے۔ آزاد ملک پاکستان میں اب ایک نئی نوع کی ہائبرڈ جمہوریت کی گھاس بوئی گئی ہے۔ گھاس کی جس قدر آبیاری کی جائے، رہتی وہ گھاس ہی ہے، زمین سے ملی ہوئی بے ثمر۔

خیر جمہوریت جس نوع کی بھی ہو اس کا تواتر برقرار رہنا بذات خود ایک احسن عمل ہے کیونکہ کون جانے اس گھاس میں بھی آشفتہ سر پرندے کوئی ایسے بیج ڈال دیں جو باثمر تناور شجر آزادی کی پرداخت کا موجب ہو۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *