Taliban, Pakistan and Education

طالبان ، مسلم عورت اور پاکستان میں تعلیم کا مستقبل کیا نظر آتا ہے؟ یہ سوال بہت الجھے ہوئے اور بہت پیچیدہ ہیں – ہم ان سوالوں پر صرف سوال اٹھا سکتے ہیں – اس سے بڑھ کر ہم جیسے عام لوگوں کے بس میں کچھ نہیں – آج ہم طالبان کی بات کریں گے – – بعد میں دوسرے اور تیسرے موضوع پر بات ہوگی –

Women in Taliban
Women in Taliban

تہزیبی نرگسیت نامی کتاب کے آخری باب میں طالبان سے کچھ سوال پوچھے گئے تھے – ظاہر ہے اتنے طاقتور لوگ سوالوں کے جواب نہیں دیتے – تاہم وہ سوال قائم ہیں کیونکہ یہ انسانی زندگی کے لئے اہم ہیں- اب جبکہ انہوں نے امریکہ کو شکست دے دی ہے تو طالبان اور ان کی حامی قوتوں کے حوصلے اور بھی بلند ہونا فطری ہے – لیکن الجھے ہوئے سوال کچھ اور الجھ گئے ہیں –
طالبان کی فتح کو ابھی دو ہفتے نہیں ہوئے تو اسلام کے ایک اور دعوی دار نے ان کے خلاف جنگ کا آغاز کر دیا ہے – چونکہ قرآن اور حدیث نے کوئی سیاسی نظام دیا ہی نہیں ، لہٰذا ” اور اسلام چاہئے” کی تحریک کبھی مکمل نہیں ہو پاتی –
پہلے جماعت اسلامی اٹھی جس نے کہا پاکستان اور دنیا غلط ہے ، اسے اسلام کی ضرورت ہے – چنانچہ قرارداد مقاصد کی بنیاد پر اسلامی جمہوریہ پاکستان کے ہر مذھب کے لوگوں کو پابند کر دیا گیا کہ ان کے منتخب نمایندے ہر فیصلہ اسلامی علما سے پوچھ کر کریں گے – یہ ہو گیا تو الله اور اسلام کے وارثوں نے کہا “نہیں یہ نا کافی ہے “- چنانچہ ملک میں گلی گلی مدرسوں اور مسجدوں کا ظہور ہوا اور آواز آئی ” اور اسلام لاؤ ، اسلام کم ہے ” – جب اور اسلام آیا تو آواز آئی سب تباہی اور کرپشن اس لئے ہے کہ ہم نے اسلام کو بھلا دیا ہے ، اسلامی حکومت چاہئے – چنانچہ طالبان کا ظہور ہوا اور ہماری اسلامی افواج پاکستان نے افغانستان میں اسلامی امارات قائم کر دی –
ہمارے کچھ حکمرانوں نے اسلام کی اس ابھرتی ہوئی قوت سے اختلاف کیا تو پاکستان کی اینٹ سے اینٹ بجا دی گئی – تب آواز آئی “پاکستان ، طالبان اور ریاست مدینہ چاہئے”-
ابھی یہ چل رہا تھا تو داعش کی للکار اٹھی ہے کہ ” امارات اسلامی غلط ہے ، دنیا کو خلافت اسلامی چاہئے ” —
سوال یہ ہے کہ اسلام کا یہ قافلہ کہاں رکے گا ؟ ہم کہتے ہیں ” اور اسلام ! اور زیادہ اسلام ! اور بھی زیادہ اسلام ! انتہائی زیادہ اسلام !” — لیکن اس انتہائی اسلام کے پرچم و مینار کے ساۓ تلے مسلمان عورت کے ساتھ مسلمان مرد دن دھاڑے حسب توفیق اجتماعی زنا بالجبر کر رہے ہیں ، جرم اور گناہ کی کونسی شکل ہے جس میں ہم دنیا کے لیڈر نہیں ؟
چنانچہ کچھ نئے سوال اٹھ کھڑے ہیں – کیا پاکستان کو یقین ہے کہ افغان طالبان اور پاکستانی طالبان متحد نہیں ہو جائیں گے ؟ کیا فاٹا اور شمالی علاقہ جات ، طالبان کے “اصلی اسلام” کی کشش سے بچ جائیں گے ، وہ کشش جو خود ہم نے ستر سال کی محنت سے پیدا کی ہے ؟ کیا یہ ذہین، تجربہ کار ، فاتح طالبان ، جنھیں چین اور روس گلے لگانے کو تیار ہیں ، آج بھی ہماری قیادت میں چلنے کو تیار ہونگے ؟ کیا اس بات کا کوئی خطرہ نہیں کہ طالبان کی طاقتور حکومت اپنے وسائل کو بڑھانے کے لئے اپنی سٹرٹیجک گہرائی پاکستان میں بڑھاے گی جیسے ہم ایک مدت تک افغانستان میں بڑھاتے رہے ہیں؟ کیا افغان طالبان بھارت کے اتنے ہی مخالف ہیں جتنے ہم سمجھ رہے ہیں ؟ کیا انہوں نے کوئی ایسا عندیہ دیا ہے ؟ چین اور روس طالبان کی حکومت سے کیا کام لینا چاہتے ہیں ؟ کیا یہ طاقتیں پاکستان کو “سیدھے راستے” پر رکھنے کے لئے طالبان کا دباؤ استعمال نہیں کریں گی ؟
ایسے کئی سوال اس وقت افق کی دیوار پر لکھے دکھائی دیتے ہیں ! ! لیکن ہم ایک ہی آواز سن رہے ہیں “ابھی اسلام کم ہے “

یہ سچ ہے کہ اس خطہ کی تباہی کے مجرم ہم سے زیادہ امریکی حکمران ہیں جنہوں نے مسلم حکمرانوں کی مریضانہ نرگسیت اور مسلم عوام کے جہادی جذبوں کو اکسا کر اپنے مقاصد حاصل کئے – انہوں نے پچھلے ستر برسوں میں مسلم اقوام کے روشن خیال لیڈروں کو ان کے اپنے ہی غداروں کے ہاتھوں مروایا اور مسلم عوام کے فکری ارتقا کو روکنے کے لئے انھیں مذہبی فخر میں الجھا دیا –
آج ہم شیر اور شاہین بن چکے ہیں – صرف شکل دنیا کے دوسرے انسانوں جیسی رہ گئی تھی جسے ہمارا وزیر اعظم بدل دینا چاہتا ہے – تاکہ ہم شیر کی کھال اور شاہین کے پر پہنیں اور ہم سے گوشت کی وہی بو آئے جو ان عظیم خونخواروں سے آتی ہے – کیونکہ اس شیر صفت سقراط کو یقین ہے کہ اکیسویں صدی کی صنعتی دنیا کا انسان ہونا غلامی ہے اور شیر شاہین بن جانا ہی آزادی ہے –

امریکی صدر نے افغان صدر کو بتا دیا تھا کہ شیروں اور شاہینوں کے مقابلہ میں امریکہ اسکو کوئی مدد نہیں دے گا ، کیونکہ یہی امریکی اسٹیبلشمنٹ کی پکی پرانی روش ہے – ایسے حالات میں افغان حکومت کا طالبان سے لڑنا خود کشی کے سوا کیا تھا ؟ افغان شیروں اور شاہینوں کی فتح یقینی تھی ، لہذا مزاحمت نہ کرنا بے مقصد خونریزی سے بہتر تھا –
لیکن جب بہت سے شیر دھا ڑتے ہیں اور ہزاروں شاہین چینختے ہیں تو جنگل میں پھنسے ہوئے نہتے انسان شہروں کی طرف بھاگتے ہیں – دنیا افغان عوام کی اس وحشت کا منظر دیکھ رہی ہے –

پرانا محاورہ ہے کہ ساون کے اندھے کو سب ہرا ہرا ہی لگتا ہے – لیکن ہماری حقیقت یہ ہے کہ ہم نرگسی اندھے ہیں – ہمارے ہاں ساون ہو یا سوکھا ، چاہے اپنے گھر کو آگ لگی ہو ، چاہے آگ سے کالا پیلا لال دھواں نکل رہا ہو ، ہمیں سب ہرا یعنی سبز ہی دکھائی دیتا ہے لیکن جن سے نفرت ہو ان کی ہری فصلیں بھی آگ میں لپٹی نظر آتی ہیں –

افغان عوام کو تڑپتا دیکھ کر ہم نرگسی نابینےخوشی سے جھوم رہے ہیں کہ افغانستان میں اسلام کی بہار آ گئی – ہمیں ہزاروں افغانیوں کا وحشت کی حالت میں ہوائی جہازوں سے لپٹنا چیخنا ، سرحدوں کی طرف افغان خاندانوں کا بھاگنا یوں دکھائی دیتا ہے جیسے خوشی سے رقص کر رہے ہیں – دوسری طرف ہمارے قومی دشمن کا بھارتی مقبوضہ کشمیر ہے – جس کے لاکھوں کشمیری ہمیں غم سے نڈھال ، زخموں سے چور دکھائی دیتے ہیں ، حالانکہ آج تک ان میں سے کسی ایک نے بھارت سے بھا گنے کی کوشش نہیں کی – ہزاروں کشمیری کاروبار کے لئے یا اپنے رشتہ داروں سے ملنے کے لئے دوسرے ملکوں کا سفر کرتے ہیں ، پاکستان بھی آتے ہیں ، عام بھارتی مسلمان بھی پاکستان آتے ہیں – ہم نے نہیں سنا کہ کسی نے موقع سے فائدہ اٹھا کر ہمارے پاک وطن کی سرسبز فضاوں سے لپٹ جانے کی کوشش کی ہو – یہ ہمارے نرگسی اندھے پن کا کرشمہ ہے کہ کچھ کا کچھ بن جاتا ہے –

اے کاش کبھی ایسا ہو کہ ہمیں بیگانی براتوں پر بغلیں بجانے کی بجاۓ اپنے گھر میں لگی آگ نظر آ جاۓ –

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *