Khush Kalami

مبارک بات۔

Red Rose Flower
Red Rose Flower

چند سال پہلے جوتے کی سلائی اکھڑ گئی تو میں نے سوچا کہ کیوں نہ اسے مرمت کروالیا جائے۔ یہ طرزِ عمل اس جدید سوچ سے ہٹ کر تھا جس کے تحت خوشحال لوگ  نئے جوتے پر بے دھڑک اتنے پیسے خرچ کردیتے ہیں جتنی قیمت پہ مجھ جیسے پینڈو نے میکلوڈ روڈ لاہور سے پہلی بار سو سی سی موٹر بائیک خریدی تھی ۔ گھر کے پاس شاہ جمال مارکیٹ کے باہر ایک معمر جفت ساز دکان سجائے بیٹھے تھے۔ کیا باوقار شخصیت تھی، ہو بہو بادشاہ جارج پنجم کی تصویر۔

مجھے دیکھ کر بڑے میں نے پان سگریٹ والے کھوکھے کی طرف کوئی اشارہ کیا ۔ “بھائی جان ، پوچھ لیا ہوتا  میں تو یہ پیتا ہی نہیں “۔ فرمایا” اب تو کھل چکی ہے”۔۔۔۔ کوک پیتے ہی جوتا تیار ہوگیا۔”بیس روپے دے دیں”۔ حیرت سے پوچھا”اتنے کم ؟ ان پیسوں کی تو  بوتل پلا دی ہے۔” بڑے اطمینان سے بولے: ” وہ آپ کی قسمت۔ ” میرے دوستوں کی فہرست میں ایک اور نام کا اضافہ ہوگیا ہے۔

 Taken from Shahid Malik’s Facebook Wall.

 Posted on Pak Press on Sunday, August 29,2021.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *