Just an Anecdote

محض ایک واقعہ ..

Web Editor Affaf Azhar
Web Editor Affaf Azhar

گزشتہ برس ایک ایسا واقعہ ہوا جس نے مجھے کئی ہفتوں تک سرور میں رکھا . اور ایسا ہی کچھ چند دن پہلے .ہوا کچھ یوں کہ جیسا کہ یہاں سوشل میڈیا پر برسوں سے ایک ٹیم بنا رکھی ہے جس میں احساس رکھنے والے دوست احباب شامل ہیں . کہیں کوئی ایسا ضرورت مند محسوس ہو تو پھر بس یونہی سب مل ملا کر مدد کرتے چلے آرہے ہیں . اسی طرح  انہی میں سے ایک معذور بچی کو برسوں سے تعلیم کا خرچہ فراہم کر رہی تھی . بچی جس جگہ رہتی تھی وہاں سے سکول کافی دور تھا پھر وہیل چیئر کیساتھ ہر کوئی اسکو سکول روزانہ  لیجا بھی نہیں سکتا تھا . ہاں مگر پڑھنے کا اسے بہت شوق تھا . یہی بھانپ کر اسکی مدد کا  سوچا تھا کہ وہ کسی طور اپنے قابل ہو سکے .

بچی تھی لہٰذا اس  سے براہ راست میرا کبھی رابطہ  بھی نہیں ہوا تھا .ہاں اسکی میڈیکل رپورٹس اور معذوری کی تمام تفصیلات سے آگاہ تھی . کوئی سات آٹھ برس اسی طرح گزر گئے کہ ایک دن مجھے واٹس ایپ پر نامعلوم نمبر سے  کال آئی .دو تین بار تو میری آواز سن کر کچھ سیکنڈ بعد فون کٹ جاتا رہا پھر جیسے اس نے ہمت کر کے  انتہائی سہمی ہوئی گھبرائی ہوئی  آواز میں کہا . آنٹی اپکا نام عفاف ہے نا ؟ میں نے کہا جی بلکل بولو  کیا بات ہے  بیٹی . ؟… انٹی آپ سے میری پہلے کبھی بات نہیں ہوئی اس لئے آپ مجھے نہیں جانتی . مگر میں آپکو اچھی طرح جانتی ہوں . اور بڑی خواہش تھی آپ سے بات کرنے کی . اور پھر ساتھ ہی کہا آنٹی کیا میں آپ پر اعتماد کر سکتی ہوں کہ آپ میرا مسلۂ ایسے حل کر دیں گی کہ میرے دل و دماغ کو  سکون بھی  مل جائے اور میرے گھر کا ماحول بھی خراب نہ ہو . ؟ جی کہو بیٹا پہلے بات پتا چلے تو پھر بتا سکوں گی ہاں مگر میں  پوری کوشش کرونگی جہاں تک میرے اختیار میں ہوا اپکا ساتھ دونگی  . اس پر  سکون کا گہرا سانس لیتے ہوئے اس نے کھل کر بات کرنے کا آغاز کیا . اور کچھ یوں گویا ہوئی .

آنٹی میں اینی ہوں .فلاں  شخص کی بیٹی  اور فلاں علاقے سے . میں ہی   وہ معذور  بچی ہوں  جسکے والدین کو آپ گزشتہ آٹھ برس سے مسلسل میری تعلیم کا خرچہ بھیج رہی ہیں . آپکو بتانا تھا کہ میں نے اب بی ایس سی فرسٹ ڈویز ن میں کر لی ہے . ارے واہ واہ . یہ تو بہت خوشی کی خبر ہے . اب کیا پروگرام ہے آگے امی ابا کو بہت مبارکباد دینا میری طرف سے بیٹا .. تھینک یو انٹی . مگر میں نے آپکو کسی اور مقصد کے لئے فون کیا ہے .اچھا اب میں خاموش ہو کر مزید سننے لگی . انٹی آپکو کہنا تھا کہ آپ جو رقم اب میرے خرچے کے لئے بھیجتی ہیں مزید نہ بھیجا کریں . وہ کیوں آپکو مزید نہیں پڑھنا کیا ؟ انٹی پڑھنا ہے آگے داخلہ  بھی لے چکی ہوں مگر اب ساتھ ساتھ ادھر بچوں کو ٹیوشن بھی پڑھا رہی ہوں  کچھ ماہ سے . اور کچھ  سلائی کرکے اب میں  اپنا خرچہ نکال لیتی ہوں . آپ  نے اتنا میرا ساتھ دیا ہے اور اب میں اس قابل بھی ہوں کہ خود سے اپنا خرچہ اٹھا لوں . مجھے یقین ہے یہاں مجھ سے کہیں زیادہ ضرورت مند بھی موجود ہونگے جو اب اس مدد کے حقدار ہونگے ..

 وہ آہستگی سے بولتی چلی جا رہی تھی اس حقیقت سے مکمل انجان کہ دوسری طرف فون کانوں کو لگائے  اسکے منہ سے نکلتے ہر ہر لفظ پر ایک تواتر سے میری آنکھوں سے خوشی، طمانیت  کے آنسو بہہ رہے تھے .. وہ مزید گویا ہوئی آنٹی آپکو اب میری  ایک آخری مدد کرنی ہے  پلیز انٹی ایک اور آخری بار مجھے یقین ہے آپ یہ بھی کر سکتی ہیں . جی بولو بیٹی  میں نے اپنے جذبات کو چھپاتے ہوئے جوابا  کہا . آنٹی میں گزشتہ چند ماہ سے ابا سے مسلسل کہہ رہی ہوں کہ انٹی کو بتا دیں تاکہ وہ اب مزید مدد کے لئے مجھے  مت  بھیجیں مگر وہ نظر انداز کر رہے تھے اس بار تو  انہوں نے مجھے بری طرح  جھڑک بھی دیا ہے . وہ نہیں چاہتے کہ آپ مدد کرنا بند کریں اور مجھ سے یہ بلکل برداشت نہیں ہو رہا تھا . آنٹی یہ تو دھوکہ ہوا نا ؟؟؟ آپ کو دھوکے میں رکھنا مجھے بہت اذیت دے رہا تھا . اس لئے ابا کے فون سے اپکا رابطہ چوری چھپے مجھے ڈھونڈ کر نکالنا  پڑا . آپ بس کچھ ایسا کریں کہ میرے گھر کے حالات خراب ہوئے بنا  یہ معامله حل ہو جائے . آنٹی آپکو نہیں پتا ابا جب غصے میں ہوتے ہیں نا تو  مجھ پر ہاتھ بھی اٹھا لیتے ہیں اور میں وہیل چیئر پر اپنا دفاع بھی نہیں کر سکتی . بس اس لمحے سے مجھے بہت ڈر لگتا ہے .

میں بس  دوسری طرف  ایک عالم انہماک سے سن رہی تھی جیسے اسکے منہ سے نکلتا ہر ہر لفظ ادھر  میرے جسم میں دوڑتے ہوئے گرم   لہو کی طاقت  کئی گنا زیادہ  بڑھا رہا ھو .  یقینا یہی  وہ لمحہ تھا جو رویوں کی بابت  میری ہر نا امیدی  و مایوسی  پر بھاری تھا .. عفاف اظہر  ۔ کینیڈا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *